16 اگست 2026 - 17:12
کتائب سیدالشہداء: امریکی کنٹرول میں عراق کی دولت؛ معاشی خودمختاری کے بغیر حقیقی حاکمیت ممکن نہیں

کتائب سیدالشہداء عراق کے سیکریٹری جنرل ابوالاء الولائی نے عراق کی معیشت میں امریکی اثر و رسوخ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے وسائل اور دولت امریکی کنٹرول میں ہیں، اس لیے معاشی و مالی خودمختاری کے بغیر عراق کی مکمل حاکمیت کا دعویٰ بے معنی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، کتائب سیدالشہداء عراق کے سیکریٹری جنرل ابوالاء الولائی نے کہا ہے کہ عراق کی حاکمیت اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک ملک کے معاشی اور مالی فیصلے مکمل طور پر عراقیوں کے اختیار میں نہ ہوں۔

الولائی نے ایک بیان میں عراق کی موجودہ حاکمیت کو "نامکمل" قرار دیتے ہوئے کہا کہ خودمختاری صرف ملکی سرزمین اور سرحدوں کے کنٹرول تک محدود نہیں، بلکہ قومی وسائل، دولت اور معاشی و مالی معاملات کے بارے میں آزادانہ فیصلے بھی اس کا لازمی حصہ ہیں۔

انہوں نے عراق کی معیشت میں امریکی اثر و رسوخ اور ملک کے وسائل و اثاثوں پر واشنگٹن کے کنٹرول کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا عراقی عوام کو اپنی قومی دولت کے ساتھ اس طرح پیش آنا چاہیے جیسے یہ کسی بیرونی طاقت کی طرف سے دی گئی امداد ہو؟

الولائی نے واضح کیا کہ عراق کے قدرتی وسائل اور قومی دولت عوام کا بنیادی حق اور ملکی خودمختاری کا حصہ ہیں، انہیں کسی بیرونی طاقت کی جانب سے دی جانے والی امداد یا رعایت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

کتائب سیدالشہداء کے سیکریٹری جنرل نے عراق کو امریکی مالی و معاشی تسلط سے نکالنے، برآمدی منڈیوں کو متنوع بنانے اور بینکاری روابط کو وسعت دینے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بغداد کو ایسی آزاد معیشت تشکیل دینی چاہیے جس میں قومی وسائل، دولت اور تجارتی راستوں سے متعلق فیصلے خود عراقی کریں۔

الولائی نے کہا کہ حقیقی حاکمیت کے لیے سیاسی، معاشی اور مالی خودمختاری ضروری ہے اور جب تک کوئی بیرونی طاقت عراق کے وسائل اور معاشی فیصلوں پر فیصلہ کن اثر رکھتی ہے، ملک کی حاکمیت مکمل نہیں ہوسکتی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha